ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امرناتھ کی بس کے ڈرائیور نے کہا:7 کو بچا نہیں پایا، لیکن 50کو محفوظ لے جانے میں کامیاب رہا

امرناتھ کی بس کے ڈرائیور نے کہا:7 کو بچا نہیں پایا، لیکن 50کو محفوظ لے جانے میں کامیاب رہا

Wed, 12 Jul 2017 11:34:13    S.O. News Service

نئی دہلی،11؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ا یس انڈیا )امرناتھ یاترا پر نکلی بس پر جب دہشت گردوں نے حملہ بولا اور اندھا دھند فائرنگ کرنے لگے ،تب بس کے ڈرائیور نے تحمل کا شاندار مظاہرہ کیا اور ڈرے بغیر بس کو آگے بھگاتے لے گئے،بس کے ڈرائیور کا نام شیخ سلیم غفور بھائی ہے۔فائرنگ کے درمیان بس کو بھگاکر آگے لے جانے کے لیے ان کی کافی تعریف ہو رہی ہے۔جموں کشمیر کے اننت ناگ میں دہشت گردانہ حملے کے بعد جب سلیم کے کزن جاوید مرزا نے بات کی ،تو انہوں نے بتایا کہ جب دہشت گردوں نے گولی چلانا شروع کر دیا تو انہوں نے بس روکی نہیں اور اس وقت تک آگے بس چلاتے لے گئے جب تک سبھی حاجی عقیدت مند محفوظ نہ ہو جائیں۔اس حملے میں سات عقیدت مندوں کی موت ہو گئی جبکہ 20دیگر زخمی ہو گئے ہیں ۔اس حملے میں جن لوگوں کی جان بچ گئی ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر سلیم بس کو روک دیتے تو کئی لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتا۔اننت ناگ کے ہسپتال میں ایک زخمی نے کہا کہ تین جانب سے مسلسل فائرنگ ہو رہی تھی،ہمارا ڈرائیور بس کو آگے کچھ کلومیٹر تک لے گیا،اس نے ہماری جان بچائی۔پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ حملہ آور لشکر طیبہ کے دہشت گرد تھے ۔انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں نے پہلے ایک پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا تھا اور پھر ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر گولیاں داغی تھیں۔اس کے بعد ان دہشت گردوں نے بس کو نشانہ بنایاتھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ پانچ بجے کے بعد بس کو سڑک پر نہیں چلنا چاہیے تھا۔اب کہا جا رہا ہے کہ ٹائر پنکچر ہو جانے کی وجہ سے بس اپنے وقت سے دو گھنٹے تاخیر سے چل رہی ہے۔بھاگیہ منی جنہوں نے اس دہشت گردانہ حملے میں اپنی بھابھی کو کھو دیا، تب انہوں نے کہا کہ ڈرائیور بس کو ایک کلو میٹر دور تک لے گیا، اس وقت سخت اندھیرا تھا اور ہم کچھ دیکھ نہیں پا رہے تھے۔رات کے تقریبا 9.30بجے دہشت گردانہ حملے کے بعد سلیم نے اپنے کزن کو فون پر ساری واقعہ کی معلومات دی۔جاویدنے بتایا کہ سلیم نے کہا کہ اس کا افسوس ہے کہ وہ سات افراد کو نہیں بچا پائے ، لیکن خوشی ہے کہ وہ 50لوگوں کو محفوظ لے جا سکے ۔


Share: